زِحالِ مسکیں، مکن تُغافل، دُرائےنیناں، بنائے بتیاں
کہ تابِ ہِجراں، ندارمِ جاں، نا لیہو کاہے لگائے چھتِیاں
اس غریب کے حال سے تغافل مت برت ،آنکھیں نہ پھیر باتیں بنا کر
میری جاں اب جدائی کی تاب نہیں، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف، بروزِ وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پِیا کو جو میں نا دیکھوں، تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر
اے دوست محبوب کو دیکھے بِنا یہ اندھیری راتیں کیونکر کاٹوں

یکایک از دل دو چشم جادو، بصد فریبم بہ بردِ تسکیں
کسے پڑی ہے جو سناوے، پیارے پی کو ہماری بتیاں
پلک جھپکنے میں وہ دو جادو بھری آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں
اب کسے پڑی ہے کہ جا کر محبوب کو ہمارے دل کا حال سنایۓ

چوں شمع سوزاں، چوں زرہ حیراں، ہمیشہ گرِیاں بہ عشقِ آں مہ
نا نیند نیناں، نا آنگ چیناں، نا آپ آویں، نا بیجھیں پتیاں
میں عشق میں جلتی ہوئی شمع اور ذرہ ٔ حیراں کی طرح ہمیشہ فریاد کر رہا ہوں
نہ آنکھوں میں نیند نہ تن کو چین کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں نہ کوئی پیغام بھیجتے ھیں

بہ حق روزِ وصال دلبر، کہ داد مارا فریب خسرو
سپیت من کے ورائے راکھوں، جو پاؤں پیا کی کھتیاں
خسرو تو جانتا ہے کس کے ملنے کی امید میں بیٹھا ہے؟ جس کی یاد نے تجھ ہر چیز سے بیگانہ بنا دیا ہے
میرا من اسی کی یادوں میں مست رہتا ہے کہ کوئی یار کا رازداں ملے تو اسے کہوں کہ میرے محبوب تک میری عرضی پہنچا دینا۔

حضرت امیر خسرو

Advertisements