خبرم رسیدہ امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

میرے محبوب مجھے خبر ملی ہے کہ تو آج رات کو آئے گا
میر ا سراُس راہ پر قربان جس راہ پر تو سواری کرتا آئے گا

بلبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زِندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بِچہ کار خواہی آمد

میری جان ہونٹوں پر آگئی ہے ، تو آجا کہ میں زندہ رہوں
پھر جب میں نہ رہوں گا تو کس کام کے لئے آئے گا

غم و غصہ فراقت بکشم چنانکہ دانم
اگرم چو بخت روزے بہ کنار خواہی آمد

تیری جدائی کا غم اور دکھ بس میں ہی جانتا ہوں
جس دن تو پہلو میں آئے گا سب غم بھلا دوں گا

می تست خون خلقے و ہمی خوری دما دم
مخور این قدح کہ فردا بہ خمار خواہی آمد

تیری شراب تو عاشقوں کا خون ہے اور تو لگاتار پیتا جا رہا ہے
اس پیالے کو ترک کر دے کہ کل تو نے بھی خماری میں آجانا ہے

کششے کہ عشق دارد نگزاردت بدینساں
بہ جنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

عشق کی کشش بے اثر نہیں ہوتی
جنازہ پر نہ سہی مزار پر تو آئے گا

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آں کہ روزے بشکار خواہی آمد

صحرا کے ہرن اپنے ہاتھوں میں اپنا سر اٹھا کے پھر رہے ہیں
اس امید پر کے تو کسی روز شکار کے لئے آئے گا

بہ یک آمدن ربودی دل و دین و صبرِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

تیری ایک آمد پر خسرو کے دل وجان دین دنیا چلے گئے
کیا ہو گا جب اسی طرح دو تین با ر آئے گا

کلام: امیر خسروؔ

Advertisements